دیمک زدہ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - پرانا، بوسیدہ، خراب و خستہ۔ "سفر پہ نکلو تو اپنی وابستگی کی دیمک زدہ کتابیں جلد کر چلنا۔"      ( ١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ٥٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دیمک' کے ساتھ 'زدن' مصدر سے حالیہ تمام 'زدہ' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٩٨١ء سے "اکیلے سفر کا اکیلا مسافر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پرانا، بوسیدہ، خراب و خستہ۔ "سفر پہ نکلو تو اپنی وابستگی کی دیمک زدہ کتابیں جلد کر چلنا۔"      ( ١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ٥٦ )